ہوئے قربان جس کے نام پر الحمدللہ
نہیں اُس کو ہوئی اب تک خبر الحمدللہ
ابھی تک چل رہا ہے کاروبارِ نارسائی
نہیں ہے اس صدف میں بھی گہر الحمدللہ
میری وحشت مزے میں ہے عزیزان گرامی!
سفر میں ہے بہت گردِ سفر الحمدللہ
مزہ آئے گا اس دیوار سے سر پھوڑنے کا
نہیں اس میں کوئی امکانِ در الحمدللہ
خوشی سے قید ہوں پہلی محبت کے قفس میں
نہیں ہے آرزوئے بال و پر الحمد للہ!
خدا کا شکر ہے اُس تیغِ ابرو کی چمک پر
لپکتا ہے ابھی خونِ جگر الحمدللہ
ترے پیکانِ چشمِ سرمگیں کی مہربانی
ہے روشن دل کے کچھ زخموں کا گھر الحمدللہ
ابھی اک پردۂ امید باقی ہے رفیقو
نہیں آیا ابھی وُہ بام پر الحمدللہ
نہیں خاموش ،خاموشی مرے ویران دل کی
ابھی تک بولتا ہے یہ کھنڈر الحمدللہ
سمندر میں ابھی سوئی نہیں کشتی ہماری
ابھی تک ہے تعاقب میں بھنور الحمدللہ
میاں ارمانؔ !اس دل کا بھلا ہو جس کے دم سے
ہماری بیدلی ہے معتبر الحمدللہ
سروسامان سے ارمانؔ! میری جان چھوٹی
سفر خود بن گیا رخت سفر الحمد للہ