Articles Comments

Headline

اسلام عمل کا دین ہے کہ رد عمل کا

سب سے پہلے میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ اگر میرے کچھ فیس بکیےمسلمان بھائی مجھے اس بات کی اطلاع بہم نہ پہنچاتے کہ خدانخواستہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے فیس بک پر کوئی احمقانہ قسم کا مقابلہ منعقد ہو رہا ہے تو مجھے اس کی ہرگز خبر نہ ہوتی۔ اگر ہوتی بھی تو میں اس میں دلچسپی لینے کی بجائے یہ بہتر سمجھتا کہ اپنے آقا اس روحانی اور دنیاوی استاد اورعظیم رہنما کے بارے میں کچھ مزید آگاہی حاصل کروں اور اُن کے جو اوصاف اور خصائل میرے علم میں ہیں اُن کے مطابق عمل کرنے کے لیے اپنے پرانے پانی من کو تیار کروں۔ مگر اب چونکہ ایک جذباتی بھائی نے اس مقابلے سے مجھے آگاہ کر ہی دیا ہے تو مجھ … Read entire article »

Latest

شاعری اور کمپیوٹر

آجکل میں اپنی غزلوں اور نظموں کی نئی کتابیں چھاپنے کی تیاری میں مصروف ہوں۔ مجھے گزشتہ دس سالوں سے بیاض یا کاغذ پر لکھنے کے بجائے کمپیوٹر پر لکھنے کی جو عادت پڑی ہوئی ہے۔ اس کا خمیازہ بھگت رہا ہوں آجکل۔ پچھلے دنوں اپنے پنجابی شعری مجموعے “مٹی دی بُکّل” کو ترتیب دیتے ہوئے بھی یہی مشکل درپیش آئی تھی۔ ایک ایک غزل اور نظم کے پانچ پانچ سات سات ورژن برآمد ہو رہے ہیں اور فولڈرز اور فائلز کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ہر روز ہمت جٹا کر بیٹھتا ہوں اور ہر روز نامید ہو جاتا ہوں کہ یہ پہاڑ مجھ سے سر نہیں ہونے کا۔ اور ہو سکتا ہے میری کئی … Read entire article »

قراتِ تیرگی کرنے لگیں قندیلیں بھی

قراتِ تیرگی کرنے لگیں قندیلیں بھی دیکھتی رہ گئیں منہ رات کی تاویلیں بھی ابرھہ اب ترے لشکر کو کوئی خوف نہیں سنگ کعبے پہ گراتی ہیں ابابیلیں بھی قتل کرنے لگے قرآن اٹھا کر وہ مجھے میری تصلیب میں شامل ہوئیں انجیلیں بھی قصہ ءنور کے حیرت بھرے افسانے میں آگ اور خون سے لکھی ہوئی تمثیلیں بھی تیرا دعوٰی بھی غلط فہمی پہ مبنی ہے میاں میری خوش فہمیاں نکلیں مری تکمیلیں بھی روشنی اچھی ہے آنکھوں کی اسے دل میں بھی لا دیکھ اس حجرہ ءتاریک کی تفصیلیں بھی جس کو دعوٰی تھا بہت عشق میں غم کھانے کا بھر گئیں اس دل عیار کی زنبیلیں بھی … Read entire article »

ہم خراباتِ غمِ خاک میں رہنے والے

ہم خراباتِ غمِ خاک میں رہنے والے اب کہاں ہیں ترے افلاک میں رہنے والے وحشتِ شعلہءِ منصور کو کیا سمجھیں گے یہ چراغوں کی طرح طاق میں رہنے والے تو نے خود ہی تو نکالا تھا ہمیں جنت سے اب نہیں ہم ترے ادراک میں رہنے والے جنبشِ دستِ ہنرور میں ہیں کوزوں کے نقوش یہ نہیں خاک میں یا چاک میں رہنے والے اُس کو ڈر ہے کہ یہاں جڑ نہ پکڑ لیں اک دن انتشارِ خس وخاشاک میں رہنے والے ان بگولوں سے ترا دشت اُدھڑ جائے گا کبھی اُٹھے جو تری دھاک میں رہنے والے یہ تعلّی ترے منہ سے نہیں اچھی لگتی اے مرے انفس و آفاق میں رہنے والے ترے ملبوس کے لپکے سے تو لگتا ہے مجھے یہ ستارے نہیں پوشاک میں رہنے … Read entire article »

O April

(My first poem I wrote in NewYork) Now I am scaring myself like rotten roots in dark damp mud Want to grow out to shower In the sunshine and shed The darkness and vomit The depressed damp and dazzle with green And grin with gratitude to the wind Which mingles her blossom with New born branches and shares Her breath with death so the spring Can spring and smile a smile Which is the first and the last Way out of the scary selfish stinginess. O April o April I have conserved and concealed in my sighs, some kisses for your cheeks and some tears for your leaves. I am waiting and I am Scared. … Read entire article »

New York

I saw from the window of my ecstasy New York was lying underneath Like old widow still wearing black City of hopes and desires as I heard From the winds of my town Was ready to shine my shoes And strangle me with its silky smell Heaven was ready to be lodged But smile was erased from my face When the sparkling sand of snow Mixed in the tingling whirl of air muttered some words of dying glare and whispered in my ear I am twenty years late To catch even that so called train Of triumph, about which I heard From the winds of my town. New York, New York where should I go now There is no flight to Havana from here You scream but why don’t you speak New York. … Read entire article »

ٹورنٹو کی پہلی نظم

میں نے غبار سے بارش اور بارش سے برف تک کا سفر کرتے ہوئے اپنی سانسوں کی نمی سے تیری تصویریں بنائیں اے دن اے مکمل ترین دن میرے ہونٹ کب تیری دھوپ چکھیں گے میرا لہو کب تیرے چہرے سے چنگاریاں چنے گا ادھوری آہٹیں کب تک میرےہونے کی راہداریوں میں گونجیں گی اے دن اے مکمل ترین دن کالی چاپ سے سماعتوں میں سبزہ کہاں اُگتا ہے بہار کے نوحے کہو یا خزاں کی حمد میری نظمیں بہرحال پھولوں کی قرابت دار ہیں تتلیاں میرے لفظوں پر آ کر بیٹھ جائیں تو تم حیران مت ہونا میں نمو کا سزا یافتہ ہوں قیدی اور کچھ نہیں کرتے صرف انتظار کرتے ہیں اے دن اے مکمل ترین دن میں نے تیرے ست رنگے سپنوں سے اپنی بے رنگ سسکاریوں کو سوئیکار کرنے کا سبق پڑھ … Read entire article »

جینا کوئی فسانہ وافسوں نہیں وہاں

جینا کوئی فسانہ وافسوں نہیں وہاں ہاں زندگی یہی ہے مگر یوں نہیں وہاں دھبے ہیں کچھ خوشی کے بھی صاحب کہیں کہیں جائیں جدھر بھی منظرِ محزوں نہیں وہاں باغوں میں ہے وہاں بھی یہی بادِ نا مراد لیکن ہر ایک پھول کا دل خوں نہیں وہاں چکر وہاں بھی چلتا ہے اس بدقماش کا سنتے تھے اے زمین کہ گردوں نہیں وہاں کیوں مفلسِ حیات لپکتے ہیں سوئے مرگ صاحب کوئی خزانہءِ قاروں نہیں وہاں ارمان آج سالگرہ ہے چراغ کی اور رات پوچھتی ہے کہ میں کیوں نہیں وہاں … Read entire article »