ہوئے قربان جس کے نام پر الحمدللہ

غزل 

ہوئے قربان جس کے نام پر الحمدللہ
نہیں اُس کو ہوئی اب تک خبر الحمدللہ

ابھی تک چل رہا ہے کاروبارِ نارسائی
نہیں ہے اس صدف میں بھی گہر الحمدللہ

میری وحشت مزے میں ہے عزیزان گرامی!
سفر میں ہے بہت گردِ سفر الحمدللہ

مزہ آئے گا اس دیوار سے سر پھوڑنے کا
نہیں اس میں کوئی امکانِ در الحمدللہ

خوشی سے قید ہوں پہلی محبت کے قفس میں
نہیں ہے آرزوئے بال و پر الحمد للہ!

خدا کا شکر ہے اُس تیغِ ابرو کی چمک پر
لپکتا ہے ابھی خونِ جگر الحمدللہ

ترے پیکانِ چشمِ سرمگیں کی مہربانی
ہے روشن دل کے کچھ زخموں کا گھر الحمدللہ

ابھی اک پردۂ امید باقی ہے رفیقو
نہیں آیا ابھی وُہ بام پر الحمدللہ

نہیں خاموش ،خاموشی مرے ویران دل کی
ابھی تک بولتا ہے یہ کھنڈر الحمدللہ

سمندر میں ابھی سوئی نہیں کشتی ہماری
ابھی تک ہے تعاقب میں بھنور الحمدللہ

میاں ارمانؔ !اس دل کا بھلا ہو جس کے دم سے
ہماری بیدلی ہے معتبر الحمدللہ

سروسامان سے ارمانؔ! میری جان چھوٹی
سفر خود بن گیا رخت سفر الحمد للہ

آسیب آرزوئے محبت خوش آمدید

غزل

آسیب آرزوئے محبت خوش آمدید
تیرے حوالے دل کی حفاظت، خوش آمدید

آوارہ گرد شوق ہوں اے دام زلف یار
لے لے مجھے بھی زیر حراست، خوش آمدید

تجھ کو کراؤں سیر دل بے کنار کی
اے دشت تنگ دست کی وحشت خوش آمدید

دلبستگی ءِ عشق کی خلوت بیا بیا
دنیا پہ بھیجتا ہوں میں لعنت، خوش آمدید

آئینے میری گرد بھری گردشوں میں تو؟
اے پیشوائے حسرت و حیرت!خوش آمدید

ارمانؔ مجھ کو دیکھ کے صحرا بھی خوش ہوا
بولے جناب قیس بھی، حضرت! خوش آمدید

Beer Garden – A Poem by Ali Arman

بیئر گارڈن

نرم چہکتی دھوپ سے بھرے ہوئے
جولائی کے اس جنت جیسے دن میں
تازہ کھلے ہوئے بوسوں کی مہکاروں سے آنکھ چرائے
منہ لٹکائے کیوں بیٹھے ہو
آوارہ نظروں والی بے رحم دوپہریں
خالی گلاسوں والے
تنہا مشتریوں کو طعنے مارتی ہیں
ان مرجھائے بنچوں کی سرگوشیاں سنتے رہے
تو پاگل ہو جاﺅگے

اٹھو!
جگمگ جگمگ بار پہ بھرے بدن والی—وہ
جو دوشیزہ دھوپ کھڑی ہے
اُس کے اور تمھارے بیچ میں
بیزاری کے کچھ قدموں کا فاصلہ ہے
اس بے معنی بے منزل بیزاری سے
کوئی راہ نکالو
اُٹھو!
اُٹھ کے بیئرکے پائنٹ میں گھول دو ساری تلخیاں پیارے
مردہ لہو میں بھرو ستارے
چیئرز کرو
اور گہرا گھونٹ بھرو
سانسوں کی آخری گہرائی تک
جسم کی ازلی ویرانی سے
روح کی ابدی تنہائی تک
سائیڈر میرا سب سے پیارا دوست ہے
اورا سٹیلا میری محبوبہ ہے
آﺅ میں تم کو ان سے ملواتا ہوں
اورپھر وُہ تم کو تم سے ملوائیں گے
بولو بھائی کس افسوس کے
بھنور میں چکر کاٹ رہے ہو
باہر آﺅ
پچھتاوے کے پاتالوں میں دن نہیں چڑھتا
کیا کھونے کا شکوہ کرنا
کیا پانے پر جشن منانا
اس امکان گہہِ عبرت میں
سب رستے ہیں
منزل کوئی نہیں ہے پیارے
اس گولائی کے گھن چکر میں
میں بھی رستہ تم بھی رستہ
باہر دیکھو
وُہ جو گلی کی نکڑ پر اک لڑکی کھڑی ہے
جس کے منی اسکرٹ سے
سولہ برس کی غربت غصہ اور بیزاری جھانک رہی ہے
وُہ لڑکی بھی اک رستے سے بھٹکی ہوئی ہے
ہاہاہاہا
لیکن یہ بھٹکاوا بھی تو اک رستہ ہے
سب رستوں کے اس جنگل میں بھٹکے ہوئے ہیں
اپنا رستہ ڈھونڈ رہے ہیں
تم بھی کسی کا رستہ دیکھ رہے ہو شاید
چھوڑ دو رستے وستے دیکھنا
اگر کہو تو!
میں تم کو اک راز بتاﺅں
ابھی خدا خود رستے میں ہے
کیسا کھونا کیسا پانا
اس سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا ہے
سارا دن تم بیئر پیو
اور شام کو مر جانے کی حد تک دُھت ہو کر
پھر سونے فٹ پاتھوں پر بکھرے
عمر کی رات سے لمبے خواب بنو
ٹوٹے چراغ چنو
دیکھ لو یہ بھی اک رستہ ہے
یا پھر تم کسی دفتر کی اک میز کے پیچھے
سُوٹ پہن کر
گلے میں ٹائی کی رسی باندھ کے
اور بالوں میں جیل لگا کر
نو سے پانچ تک
اپنے بوجھل سانسوں کی بے معنی گنتی میں مشغول رہو
میں اس دوسرے رستے پر بھی چل کر دیکھ چکا ہوں
ھاھاھاھا
آﺅ مِل کر ہم اک قہقہہ ماریں
اور اگر تم قہقہہ مار نہیں سکتے تو
کم از کم اس نرم چہکتی دھوپ کو اپنے دانت دکھا دو
سورج آج بہت دن بعد نظر آیا ہے
میں تو فلک سے کالے بادلوں کے یہ جالے اتارتے تھکنے لگا تھا
ھاھاھاھا
تم افسردگی کی دیوار کو آخر کب تک چاٹو گے
بیئر تمھاری گرم ہوئی تو اور بھی کچھ بد ذائقہ ہو جائے گی
گھونٹ بھرو اور مجھ کو دیکھو
میں ستر سے کچھ اوپر ہوں
کیا لگتا ہے میں نے ستّر برسوں کا اک لمبا گھونٹ بھرا ہے
زندگی بیئر کا ایک طویل اور کڑوا گھونٹ ہی تو ہے
جس میں مٹھاس کے کچھ وقفے ہیں
اور اک گھونٹ میں کتنے وقفے ہو سکتے ہیں
اُس سے پوچھو
وہ جو کونے والی میز پہ بیٹھا ہے
پی کیپ لگائے
وہ تو سو سے بھی کچھ اوپر ہے
ہاہاہاہا
دیکھوسالا کیسے اپنے خالی ہوتے گلاس کودیکھ رہا ہے
حیرت،شدت اور حسرت سے
اپنی پلپلی ناک پہ آخری نمبر کی عینک کا بوجھ اٹھائے
اُس کے بیئر کے گھونٹ میں تین سلگتی صدیاں گھُلی ہوئی ہیں
کم ازکم تم اُس کو دیکھ کے چیئرز کرو
اور پھراپنی بوسیدہ سانسیں روک کے موت سے گہرا گھونٹ بھرو
دیکھو وقت بہت ہی کم ہے
کن سوچوں کی سلوٹ سلوٹ ڈھلوانوں پر
اُگے سروٹ سے
تم اپنی سانسوں کی ہتھیلیاں زخمی کرتے ہو
آخری گھنٹی بجنے کو ہے
ہوش میں رات گزارنا
آدمیوں کے بس کی بات نہیں ہے پیارے
یہ وُہ عیاشی ہے جو خداﺅں اور فرشتوں کی
نہ جھپکنے والی آنکھیں
اور نہ دھڑکنے والے دل ہی دلجوئی سے کر سکتے ہیں
انسانوں پر رات بہت بھاری ہوتی ہے
بھوری رنگت اور نفاست تہہ کر کے تم اپنی دائیں جیب میں رکھو
سنو تمھاری بائیں جیب میں
پس انداز کیے کچھ سکے
جن پر ملکہ
ازلوں کے بے معنی پن میں مچل رہی ہے
قطرہ قطرہ رات ٹپک کر
دل کی چھت میں جب سوراخ کرے گی
گھونٹ تو تم کو بھرنا پڑے گا
بیئر کا ہو یا جرعہ جرعہ زندگی کا
زندگی کو تو جانتا ہوں میں
بیئر کو تم کب جانتے ہو

ایک مجبوری کہیں اڑنے نہیں دیتی مجھے

Ali Arman reciting one of his new Urdu Ghazal

اندھیرا اوڑھ کے تازہ ہوئی چراغ کی لو

Ali Arman reciting an Urdu Ghazal from his first book Sukhan Tasveer Tak Pohanca (Published March, 1998)

چپ ہنیرے نال اکھیاں ڈنگن والی رات دے ورقے تے

نمود و نام کا دشمن ہے یہ بہاؤ میاں

غزل

نمود و نام کا دشمن ہے یہ بہاؤ میاں
ارے! حباب ہو ،اتنا نہ سر اٹھاؤ میاں

کرو نہ خرچ یہ دولت پرانی جھیلوں پر
یہ بے کلی ہے نئے پانیوں کی ناؤ میاں

میں موجِ رقص میں جب ریگزار تک پہنچا
پکاری وحشتِ افسردہ آؤ آؤ میاں

سرکتی رہتی ہے ہر وقت ریت قدموں سے
یہاں پہ رہتا ہے ہر آن چل چلاؤ میاں

ہم آدمی ہیں تمھاری طرح خدا تو نہیں
ہمارے ظرف کو اتنا نہ آزماؤ میاں

اندھیرا تم سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے
کوئی چراغ اگر ہے تو اب جلاؤمیاں

فراز کوہ ِتمنا ،نشیب ِحسرتِ دل
سمجھ سکو تو نہ سمجھو یہ بھید بھاؤ میاں

یہی ہے سنتِ کوزہ گرانِ واقفِ راز
بگاڑ ہی سے نکالو کوئی بناؤ میاں

سمجھ سکو تو یہ دریا ہے آتش سیال
ہر ایک موج کے دل میں ہے اک الاؤ میاں

گل خیال پہ گرد ملال جم جائے
غبار دنیا کو اتنا نہ سر چڑھاؤ میاں

ہمیں نہ خواب دکھاؤ پرائےپانیوں کے
ہم اپنی موج میں اچھے ہیں جاؤ جاؤ میاں

چرا تو لو گےمضامیں مرے سخن سے تم
کہاں سے لاؤگےلیکن مرا سبھاؤ میاں

کچھ خوابوں کو روتے عمر گزاری ہے

غزل
کُچھ خوابوں کو روتے عُمر گزاری ہے
یونہی جاگتے سوتے عُمر گزاری ہے

مایوسی اور دُ کھ کی کالی ڈوری میں
روشن خواب پروتے عُمر گزاری ہے

شاید کوئی اشک ستارا ہو جائے
ہم نے روتے روتے عُمر گزاری ہے

کیا تعمیر ہوا ہے یہ معلوم نہیں
پتھر ڈھوتے ڈھوتے عُمر گزاری ہے

جانے کون ہماری فصلیں کاٹے گا
ہم نے آنسو بوتے عُمر گزاری ہے