جینا کوئی فسانہ وافسوں نہیں وہاں

Monday, 25. January 2010

جینا کوئی فسانہ وافسوں نہیں وہاں
ہاں زندگی یہی ہے مگر یوں نہیں وہاں

دھبے ہیں کچھ خوشی کے بھی صاحب کہیں کہیں
جائیں جدھر بھی منظرِ محزوں نہیں وہاں

باغوں میں ہے وہاں بھی یہی بادِ نا مراد
لیکن ہر ایک پھول کا دل خوں نہیں وہاں

چکر وہاں بھی چلتا ہے اس بدقماش کا
سنتے تھے اے زمین کہ گردوں نہیں وہاں

کیوں مفلسِ حیات لپکتے ہیں سوئے مرگ
صاحب کوئی خزانہءِ قاروں نہیں وہاں

ارمان آج سالگرہ ہے چراغ کی
اور رات پوچھتی ہے کہ میں کیوں نہیں وہاں

Leave a Reply

You must be logged in to post a comment.