Ali Arman's Official Website » اردو غزلیں --- Urdu Ghazals » جینا کوئی فسانہ وافسوں نہیں وہاں
جینا کوئی فسانہ وافسوں نہیں وہاں
جینا کوئی فسانہ وافسوں نہیں وہاں
ہاں زندگی یہی ہے مگر یوں نہیں وہاں
دھبے ہیں کچھ خوشی کے بھی صاحب کہیں کہیں
جائیں جدھر بھی منظرِ محزوں نہیں وہاں
باغوں میں ہے وہاں بھی یہی بادِ نا مراد
لیکن ہر ایک پھول کا دل خوں نہیں وہاں
چکر وہاں بھی چلتا ہے اس بدقماش کا
سنتے تھے اے زمین کہ گردوں نہیں وہاں
کیوں مفلسِ حیات لپکتے ہیں سوئے مرگ
صاحب کوئی خزانہءِ قاروں نہیں وہاں
ارمان آج سالگرہ ہے چراغ کی
اور رات پوچھتی ہے کہ میں کیوں نہیں وہاں
Filed under: اردو غزلیں --- Urdu Ghazals










