قراتِ تیرگی کرنے لگیں قندیلیں بھی
Monday, 25. January 2010
قراتِ تیرگی کرنے لگیں قندیلیں بھی
دیکھتی رہ گئیں منہ رات کی تاویلیں بھی
ابرھہ اب ترے لشکر کو کوئی خوف نہیں
سنگ کعبے پہ گراتی ہیں ابابیلیں بھی
قتل کرنے لگے قرآن اٹھا کر وہ مجھے
میری تصلیب میں شامل ہوئیں انجیلیں بھی
قصہ ءنور کے حیرت بھرے افسانے میں
آگ اور خون سے لکھی ہوئی تمثیلیں بھی
تیرا دعوٰی بھی غلط فہمی پہ مبنی ہے میاں
میری خوش فہمیاں نکلیں مری تکمیلیں بھی
روشنی اچھی ہے آنکھوں کی اسے دل میں بھی لا
دیکھ اس حجرہ ءتاریک کی تفصیلیں بھی
جس کو دعوٰی تھا بہت عشق میں غم کھانے کا
بھر گئیں اس دل عیار کی زنبیلیں بھی
Leave a Reply
You must be logged in to post a comment.