Articles Comments

Ali Arman's Official Website » اردو نظمیں --- Urdu Poems » ٹورنٹو کی پہلی نظم

ٹورنٹو کی پہلی نظم

میں نے غبار سے بارش
اور بارش سے برف تک کا سفر کرتے ہوئے
اپنی سانسوں کی نمی سے تیری تصویریں بنائیں
اے دن اے مکمل ترین دن
میرے ہونٹ کب تیری دھوپ چکھیں گے
میرا لہو کب تیرے چہرے سے چنگاریاں چنے گا
ادھوری آہٹیں کب تک
میرےہونے کی راہداریوں میں گونجیں گی
اے دن اے مکمل ترین دن
کالی چاپ سے سماعتوں میں سبزہ کہاں اُگتا ہے
بہار کے نوحے کہو
یا خزاں کی حمد
میری نظمیں بہرحال پھولوں کی قرابت دار ہیں
تتلیاں میرے لفظوں پر آ کر بیٹھ جائیں
تو تم حیران مت ہونا
میں نمو کا سزا یافتہ ہوں
قیدی اور کچھ نہیں کرتے
صرف انتظار کرتے ہیں
اے دن اے مکمل ترین دن
میں نے تیرے ست رنگے سپنوں سے
اپنی بے رنگ سسکاریوں کو
سوئیکار کرنے کا سبق پڑھ لیا ہے
میں اب اپنی آہوں کے پرچم بناتا ہوں
اور مسکراتے ہوئے بچوں کے ہاتھوں میں تھما دیتا ہوں
خود سے رہائی کا پہلا انعام
خوف سے رہائی ہے
اپنے جیسےشب گزیدوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر
کسی آدرش کے لیے مرنا
دروغ گو دھندلکے کے تہہ خانوں میں
شراب آلودہ موت سے بہتر ہے
پابلو آج ٹورنٹو کی پہلی برفباری میں
تم مجھے بہت یاد آ رہے ہو

Written by Webmaster

Filed under: اردو نظمیں --- Urdu Poems

Comments are closed.