ٹورنٹو کی پہلی نظم
Monday, 25. January 2010
میں نے غبار سے بارش
اور بارش سے برف تک کا سفر کرتے ہوئے
اپنی سانسوں کی نمی سے تیری تصویریں بنائیں
اے دن اے مکمل ترین دن
میرے ہونٹ کب تیری دھوپ چکھیں گے
میرا لہو کب تیرے چہرے سے چنگاریاں چنے گا
ادھوری آہٹیں کب تک
میرےہونے کی راہداریوں میں گونجیں گی
اے دن اے مکمل ترین دن
کالی چاپ سے سماعتوں میں سبزہ کہاں اُگتا ہے
بہار کے نوحے کہو
یا خزاں کی حمد
میری نظمیں بہرحال پھولوں کی قرابت دار ہیں
تتلیاں میرے لفظوں پر آ کر بیٹھ جائیں
تو تم حیران مت ہونا
میں نمو کا سزا یافتہ ہوں
قیدی اور کچھ نہیں کرتے
صرف انتظار کرتے ہیں
اے دن اے مکمل ترین دن
میں نے تیرے ست رنگے سپنوں سے
اپنی بے رنگ سسکاریوں کو
سوئیکار کرنے کا سبق پڑھ لیا ہے
میں اب اپنی آہوں کے پرچم بناتا ہوں
اور مسکراتے ہوئے بچوں کے ہاتھوں میں تھما دیتا ہوں
خود سے رہائی کا پہلا انعام
خوف سے رہائی ہے
اپنے جیسےشب گزیدوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر
کسی آدرش کے لیے مرنا
دروغ گو دھندلکے کے تہہ خانوں میں
شراب آلودہ موت سے بہتر ہے
پابلو آج ٹورنٹو کی پہلی برفباری میں
تم مجھے بہت یاد آ رہے ہو