ہم خراباتِ غمِ خاک میں رہنے والے

Monday, 25. January 2010

ہم خراباتِ غمِ خاک میں رہنے والے
اب کہاں ہیں ترے افلاک میں رہنے والے

وحشتِ شعلہءِ منصور کو کیا سمجھیں گے
یہ چراغوں کی طرح طاق میں رہنے والے

تو نے خود ہی تو نکالا تھا ہمیں جنت سے
اب نہیں ہم ترے ادراک میں رہنے والے

جنبشِ دستِ ہنرور میں ہیں کوزوں کے نقوش
یہ نہیں خاک میں یا چاک میں رہنے والے

اُس کو ڈر ہے کہ یہاں جڑ نہ پکڑ لیں اک دن
انتشارِ خس وخاشاک میں رہنے والے

ان بگولوں سے ترا دشت اُدھڑ جائے گا
کبھی اُٹھے جو تری دھاک میں رہنے والے

یہ تعلّی ترے منہ سے نہیں اچھی لگتی
اے مرے انفس و آفاق میں رہنے والے

ترے ملبوس کے لپکے سے تو لگتا ہے مجھے
یہ ستارے نہیں پوشاک میں رہنے والے

کسی حیرت کا گزر ہی نہیں اِس جنگل سے
ہم ہیں جس آئنے کی تاک میں رہنے والے

کائناتوں میں ہیں جتنے بھی چمکتے ہوئے جسم
ہیں ترے خندہءِ بیباک میں رہنے والے

کیا مرے وقت کی تجرید سمجھ پائیں گے
یہ شب و روز کے اوراق میں رہنے والے

میرے سینے میں سسکتے ہوئے صحرا پہ برس
اے مرے دیدہءِ نمناک میں رہنے والے

اب وہی وسوسے ہیں میرے شکاری ارمان
جو کبھی تھے مرے فتراک میں رہنے والے

Leave a Reply

You must be logged in to post a comment.